histroy of lahore

2
483
histroy of lahore
histroy of lahore

histroy of lahore

لاہور کی سرگذشت

histroy of lahore

لاہور کی سرگذشت اتنی ہی قدیم ہے جتنا یہ شہر ۔۔۔شہر اپنے حلیے انسانوں کی طرح بدلتے رہتے ہیں شہر انسانوں کی طرح جیتے مرتے ہیں وہ شہر جو کھبی عروس الباد کہلاتے تھے اب ان کا نام نشان تک بھی باقی نہیں ہے تاریخ کی کتابوں میں صرف ان کا نام درج ہے لاہور ان شہروں میں سے ایک ہے جو بیس مرتبہ تاراج ہوا اور بیس مرتبہ آباد ہوا اس تخریب و تعمیر کے ساتھ ساتھ اس کا حلیہ بھی بدلتا رہا شاید آپکوں یقن نہ آسکے سول سکریٹریٹ کے عقب میں دریائے راوی بہتا تھا جو چوبرجی سے جا ملتا تھا دریائے راوی میں بحری جہاز بھی چلتا تھا جس کا موجد رنجیت سنگھ تھا۔
یہ شہر ابتدا ہی سے تاریخ میں مشہور تھا لیکن اس کی تاسیس کا عہد مہد قیاسی ہے تاہم ہر مقامی اور اجنبی مورخ نے لاہور کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھاں ہے جس سے اس شہر کے ماضی کی حالت کا کچھ پتہ چلتا ہے

لاہور کا نام

لاہور شہر کے ابتدائی نام کے بارے میں مختلف عہدوں کے مورخوں نے مختلف نام بتائے ہیں اور قیاس ہے کہ لاہور کے بارہ کے کریب مختلف نام تھے لیکن سب اسی لفظ کی بدلی ہوئی اور ابتدائی شکلیں ہے
لاہور کا موجودہ نام سب سے پہلے امیر خسرونے استعمال کیا تھا
ؒ لاہور کی تاسیسں
جس طرح لاہور کے نام کے بارے میں مختلف روایتں ہیں اسی طرح لاہور کی تاسیسں کے بارے میں بھی مختلف خیال ملتے ہیں تاریخ میں ملتے ہیں مورخوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ لاہور ایک ایساں اساطیری شہر ہے اور اس کا وجود رام چندر کے زمانے سے وجود میں ہے 

 لاہور کیوں اہم تھا

محمودغزنوی کے حملے کے سے لے کر عہد حاضر تک لاہور صوبائی دارالخلافہ رہا ہے
تاریخ میں اسے کبھی وہ اہمیت یا مرکزیت حاصل نہیں رہی جو دہلی اور آگرہ یا کلکتہ کو تھی اس شہر میں وہ شاہانہ شکوہ بھی نہیں جو دہلی اور آگرہ کا تھا لیکن اس کے باوجود لاہور شہر کا نام ہر اہم مورخ نے لیا ہے لاہورکی اہمیت کی ایک وجہ یہ ہے کہ لاہور ایک گزر گاہ پر واقع ہے شمال مغرب علاقوں سے جتنے حکمران آئے ان کا خدف دہلی کو فتح کرنا تھا لاہور دہلی کے راستے پر واقح تھا پنجاب کے دوسرے علاقوں کی نسبت لاہور زیادہ ترقی یافتہ تھا سیاسی اعتبار سے بھی لاہور ایک ایسا علاقہ تھا جہاں سے پنجاب کے مختلف علاقوں کو کنٹرول کرنا آسان تھا

لاہور کا محل وقوع 

لاہور شہر بیک وقت ڈسرکٹ ہیڈ کواٹر اور صوبہ پنجاب کا دارالخلافہ ہے
مغلوں اور ان سے پہلے بھی لاہور کو صوبہ لاہور سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں گوجرانوالہ اور سیالکوٹ بھی شامل ہے لاہور سطح سمندر سے سات سو باون فٹ بلند ہے یہ دریائے راوی کے بائیں کنارے واقع ہے اور جنوب مغرب میں ملتان واقح ہے کسی زمانے میں یہ دریائے راوی کے بہت قریب تھا راوی پنجاب کے پانچ دریاؤ ں میں سب سے چھوٹا دریا ہے جو لاہور کے شمال کی جانب اب پیچھے ہٹتا ں جا رہا ہے 
اگلی پوسٹ میں لاہور کے بارہ دروازو کے بارے میں بتایا جائے گا

مزید اردو پوسٹ کیلئے روزانہ ہماری ویب سائٹ بیسٹ اردو ڈاٹ کام وزٹ کریں اور اپنا ای میل درج کر کے سب سکرائب کریں اور ہر پوسٹ بذریعہ ای میل اپنے ان باکس میں حاصل کرے شکریہ

Click here and download besturdu.com android app

SHARE
Previous articleXiaomi Mi 8
Next articlelahore k 13 darwaze

2 COMMENTS

  1. I simply want to tell you that I’m beginner to blogging and honestly liked you’re blog. More than likely I’m planning to bookmark your website . You certainly have wonderful stories. Regards for sharing your blog site.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here