Interesting Incidents of Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah

4
266
Interesting Incidents of Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah
Interesting Incidents of Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah

Interesting Incidents of Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah

Interesting Incidents of Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah

قائداعظم محمد علی جناح کے دلچسپ واقعات

دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہے جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہے اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ان کا شمار بھی ایسی ہی گوہر نایاب ہستیوں میں ہو تا ہے جو اپنے کام سے دوسروں کا فریضہ سر انجام دیتے ہے پیش خدمت ہے قائداعظم محمد علی جناح کے چند دلچسپ واقعات

قائداعظم محمد علی جناح جب لندن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے تو ایک پروفیسر پیٹر ان سے شدید نفرت کرتا تھا ایک دن پروفیسر دائنگ روم مین لنچ کر رہا تھا تو قائداعظم محمد علی جناح بھی اپنی ٹرے لے کر اسی ڑیبل پر بیٹھ گئے پروفیسر کو اچھا نہ لگا اور اس نے قائداعظم محمد علی جناح سے کہا ں کیا آپکو نہیں پتہ کہ ایک پرندہ اور صور ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتے تو قائداعظم محمد علی جناح نے پورے عطمنان لہجے میں جواب دیا کہ آپ پریشان نہ ہو میں یہاں سے اٹھ کر دوسری ٹیبل پر بیٹھ جاتا ہو تو قائداعظم محمد علی جناح کی اس حاضر دماغی پر اس پروفیسر کو بہت غصہ آیا اور اس نے انتکام لینے لا فیصلہ کر لیا اگلے ہی دن پروفیسر نے قائداعظم محمد علی جناح سے سوال کیا کہ اگر تم کو راستے میں دو بیگ ملے ایک میں دولت اور دوسرے میں دانائی ہو تو تم کس کو اٹھاؤ گے قائداعظم محمد علی جناح نے جواب دیا کہ دولت کو قائداعظم محمد علی جناح کے اس جواب پر پروفیسر نے طنزیہ مسکراہٹ پر جواب دیا کہ میں تمہاری جگہ ہوتا تو دانائی والے بیگ کو اٹھاتا تو قائداعظم محمد علی جناح نے مسکرا کر جواب دیا کہ ہر انسان وہی چیز چاہتا ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی 

اوراس کے علاوہ وکالت میں بھی قائداعظم محمد علی جناح کے کچھ اصول تھے جن سے وہ کبھی تجاوز نہیں کرتے تھے ایک تاجر اییک مقدمہ لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا ں کہ میں چاہتا ہو کہ آپ اس مقدمے میں میری وکالت کرے اس تاجر نے قائداعظم محمد علی جناح سے ان کی فیس پوچھی توآپ نی فرمایا میں مقدمے کے حساب سے نہیں دن کے حساب سے فیس لیتا ہو ں موکل نی دریافت کیا کتنی فیس قائداعظم محمد علی جناح نے جواب دیا کہ پانچ سو روپے فی پیشی موکل نے کہا میرے پاس اس وقت پانچ ہزار روپے ہے آپ پانچ ہزار میں میرا مقدمہ لڑے قائداعظم محمد علی جناح نے جواب دیا کہ مجھے افسوس ہے کہ میں یہ مقدمہ نہیں لے سکتا ہو سکتا ہے کہ یہ مقدمہ طول پکڑ جائے اور یہ رقم ناکافی ہو بہتر ہے کہ آپ کوئی اور وکیل کر لے کیونکہ میرا اصول ہے کہ میں فی پیشی فیس لیتا ہو چنانچہ قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی شرط پر مقدمہ لڑا اور اپنی فراست سے مقدمہ تین پیشیوں میں ہو جیت لیا اور فیس کے صرف پندرہ سو روپے وصول کئے تاجر نے اس کامیابی کی خوشی میں پورے پانچ ہزار دینا چاہے تو قائداعظم محمد علی جناح نے جواب دیا کہ میں نی اپنا حق لے لیا ہے اور زائد رقم لینے سے انکا ر کر دیا علامہ محمد اقبال نے قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں فرمایا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کو نہ ہی خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ شخص خیانت کر سکتا ہے 

قائداعظم محمد علی جناح کی ذہانت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہے کہ ایک دفہ آپ پارلیمنٹ کے اجلاس ہونے کے لیے ممبئی سے دہلی جانے والی ٹرین کے فرسٹ کلاس ڈبے میں سوار ہوئے جو کہ مکمل طور پر خالی تھا جب ٹرین چلنے لگی تو اچانک ایک خاتون بھی اسی ڈبے مین سوار ہو گئی اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا ایک بیگ تھا اورر وہ ایک خوبصورت اور نوجوان لڑکی تھی قائداعظم محمد علی جناح کہتے ہے کہ جب ٹرین اپنے سٖفر کی طرف روانہ ہوئی تو میں اخبار پڑھنے میں مصروف ہو گیا ابھی چند منٹ گزرے تھے کہ اس لڑکی نے مجھ سے کہا ں کہ مجھے ایک ہزار روپے دو ورنہ میں ٹرین کی بریک کینچ کر چیخوں چلاؤں گی قائداعظم محمد علی جناح کہتے ہے کہ میں خاموش رہا کیونکہ صورت حال شرم ناک تھی اور سفر بھی لمبا تھا اس نے دو سے تین بار اپنی دیمانڈ کا اظہار کیا لیکن میں خاموش ہی رہا اور یو محسوس کروایا جیسے کچھ سنائی ہی نہیں دیتا آخر وہ میری اس حرکت سے بہت حیران ہوئی اور اٹھ کر میرا بازور پکڑ کر یہی بات دہرائی قائداعظم محمد علی جناح کہتے ہے کہ اس کا یہ کرنا تھا کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی کانو پر رکھے اور اشارہ کیا کہ مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا میں بہرا ہو اور پھر میں نے اسے ایک کاغذ اور قلم دی تا کہ وہ اپنی بات مجھے لکھ کر سمجھا سکے اس نے ضصے میں وہ پیپر پکڑا اور اوپر وہ ساری بات لکھ دی جو وہ کہہ رہی تھی قائداعظم محمد علی جناح فرماتے ہے کہ بس اس کا یہ لکھنا تھا کہ میں نے وہ پیپر اپنی جیب میں ڈالا اور ٹرین کی زنجیر کھینچ دی چند ہی لمحوں میں وہ ٹرین رکھی وہاں پر موجو د گارڈ میری طرف آیا اور میں نے وہ پیپر اسے پکڑا دیا اور یو اس عورت کو گرفتار کر لیا گیا اور میں اپنے سفر کی طرف چل پڑا وہ مزید فرماتے ہے کہ اس حادثے کہ بعد میں نے ارادہ کیا کہ اب خالی ڈبے میں کبھی سفر نہیں کرو گا بلکہ پبلک کے ساتھ عام ٹکٹ پر سفر کرو گا 

ایک اور واقعہ ہے کہ جس میں قائداعظم محمد علی جناح ایک دفہ اپنے ڈرایؤر کے ساتھ کہی جا رہے تھے کہ راستے میں ان کو ایک خاتون ملی جس نے لفٹ کا مطالبہ کیا رات کا وقت تھا اور دیگر ٹراسپوٹ بھی دستیاب نہ تھی چناچہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے آپ نے اس خاتون کو اپنے ساتھ سوار کر لیا سفر گزرتا رہا اور قائداعظم محمد علی جناح اپنی سگریٹ پینے میں مصروف تھے جب اس خاتون کی منزل آئی تو اس نے چیخنا چلانا شروع کر دیا کہ اس آدمی نے میرے ساتھ ظلط حرکت کرنے کی کوشش کی ہے

چونکہ اس وقت بہت سے لوگ آپکے خلاف تھے تو سب منٹو ں میں جمع ہو گئے قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی سگریٹ لوگو ں کے سامنے کرتے ہوئے ایک جھٹکا دیا تو سگریٹ کے اوپر جو گل سا بن جاتا ہے وہ نیچے گر گیا تب آپ نے فرمایا کہ اگر میں نے اس خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی ہوتی تو ابھی تک اس سگریٹ کے اوپر یہ گل نہ ہوتا بلکہ زور زبردستی کی وجہ سے گر جاتا لیکن یہ میری شرافت کا سبوت ہے کہ میں نے کچھ نہیں کیا اس کے بعد آپ اپنی گاڑی میں سوار ہوئے اور وہاں سے چلے گئے 

میرے دوستوں قائداعظم محمد علی جناح ایک ایسے لیڈر تھے کہ جن کی دیانت داری کا یہ عالم تھا کہ ایک دفہ آپ سفر کر رہے تھے اور سفر کے دوران ان کو یاد آیا کہ ان کا ریل ٹکٹ غلطی سے ملازم کے پاس رہ گیا ہے اور وہ ٹکٹ کے بنا سفر کر رہے ہیں جب وہ سٹیشن پر اترے اور ٹکٹ والے سے ملے تو اسے کہاں میرا ٹکٹ ملازم کے پاس رہ گیا ہے اس لئے مجھے دوسرا ٹکٹ دے دو تو ٹکٹ والے نے کہا ں کہ آپ دو روپے مجھے دے اور پلیٹ فارم سے باہر چلے جائے قائداعظم محمد علی جناح یہ سن کر طیش میں آگئے

اور انہوں نے کہاں کی تم نے مجھ سے رشوت مانگ کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے بات اتنی بڑھی کہ لوگ اکٹھے ہو گئے اور ٹکٹ ہولڈر نے لاکھ جان چڑانا چاہی مگر قائداعظم محمد علی جناح اس کو پکڑ کر سٹیشن ماسٹر کے پاس لے گئے بل آخر ان سے رشوت طلب کرنے والا قانون کے شکنجے میں آگیا قائداعظم محمد علی جناح و ہ لیڈر تھے جن کے بارے میں انگریزوں نے بھی یہ کہاں تھا کہ اگر پتہ ہوتا کہ قائداعظم محمد علی جناح کو اتنی بڑی بیماری ہے تو ہم کبھی بھی پاکستان نہ بننے دیتے کیونکہ قائداعظم محمد علی جناح نے آخری وقت تک اپنی بیماری کو پوشیدہ رکھا تھا ان کو معلوم تھا کہ میری بیماری کا ہندؤں اور انگریزوں کو پتہ چل گیا تو ہندوستان کی تقسیم کو انگریز موخر کر دے گے اور قائداعظم محمد علی جناح نے وفات پانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے کہاں تھا کہ پاکستا ن ہرگز وجود میں نہ آتا اگر اس میں فیضان نبویﷺ شامل نہ ہوتا 

کچھ لوگو ں کا خیال ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ہندوستان کو تقسیم کیا اگر وہ ایسا نہ کرتے تو آج ہندوستان اور پاکستا ن ایک ہوتے اور ان کے درمیان لڑائی جھگڑے نہ ہوتے تو ان لوگو ں کے لئے ایک واقعہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح ایک دفہ طلبہ سے ختاب کر رہے تھے ایک ہندوں لڑکے نے کھڑے ہو کر سوال کیا کہ آپ ہندوستان کا بٹوارہ کروا کر ہم لوگو ں کو تقسیم کرنا چاہتے ہے

آپ سوچنے کے لئے کچھ دیر خاموش رہے تو طالب علموں نے آپ پر جملے کسنے شروع کر دئے کچھ نے کہا کہ آپ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے قائداعظم محمد علی جناح نے ایک پانی کا گلاس مگوایا آپ نے تھوڑا سا پانی پیا ں اور باقی کو میز پر رکھ دیا چند لمہوں بعد آپ نے ایک ہندوں لڑکے کو بلایا

اور اس کو باقی بچہ ہوا پانی پینے کو کہا ں تو ہندو لڑکے نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا پھر آپ نے ایک مسلمان لڑکے کو بلایا اور وہی پانی اس لڑکے کو پینے کو کہاں تو اس لڑکے نے بنا کوئی سوال کئے وہ پانی پی لیا آپ پھر سب طلبہ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا کہ مسلمانوں اور ہندؤں میں یہی فرق ہے ہر طرف خاموشی چھا گئی سب پر فرق واضع ہو چکا تھا کہ مسلمان اور ہندوں کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے

قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت کا یہ عالم تھا کہ جب وہ مسلمانوں کے لیڈر بن گئے تو گاندھی نے آپکوں خط لکھا اور کہا کہ میں پہلے آپکو ں مائی ڈیئر مسڑ جناح کہا کرتا تھا اب آپ قائداعظم بن گئے ہے تو کیا میں آپکوں ڈیئر قائد اعظم لکھا کروں تو قائداعظم محمد علی جناح نے جواب میں لکھا کہ غلاب کے پھول کو جس نام سے بھی پکاروں گے وہ غلاب ہی رہے گا اس کے بعد گاندھی نے قائداعظم محمد علی جناح سے پوچھا آپ اپنے سیاسی فیصلے کیسے کرتے ہے 

قائداعظم محمد علی جناح نے جواب دیا کہ میں اپنے فیصلوں کا فارمولا ں بتانے سے پہلے آپکو ں یہ بات بتانا چاہتا ہو کہ آپ اپنے سیاسی فیصلے کیسے کرتے ہے گاندھی نے کہاں ہا بتائے قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا آپ سیاسی میدان میں قدم اٹھانے سے پہلے آپ یہ معلوم کرتے ہے کہ لوگوں کا موڈ مزاج اور رائے کیا ہے جب آپکو ں لوگو کی رائے معلوم ہو جاتی ہے

 تو آپ لوگو ں کی رائے کے مطابق ان کو خوش کرنے کے لیے اپنا فیصلہ سناتے ہے جبکہ میں ہمیشہ اس کے بر عکس فیصلہ کرتا ہو گاندھی نے حیرت سے پوچھا کیا مطلب قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا میں صرف یہ دیکھتا ہو کہ کیا صیح ہے اور کیا غلط اس کے بعد جو بھی ٹھیک ہوتا میں اسکے مطابق فیصلہ کرتا ہوں گاندھی نے کہا کہ کیا لوگ آپکے اس نوعیت کے فیصلے کو تسلیم کر لیتے ہے

 نہیں لوگ شروع میں بھرپور مخالفت کرتے ہے لیکن میں سچ پر ڈتا رہا اور یہاں تک کہ میرے فیصلوں کی مخالفت آہستہ آہستہ کم ہو گئی اب لوگ سچائی کو تسلیم کر لیتے ہے اور میرے ساتھ شامل ہو جاتے ہے قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ ایک ٹھیک فیصلہ ایسے ہزار فیصلوں سے بہتر ہے جو صرف لوگوں کو خوش کرنے کے لئے کیا جائے 

ایک دفہ قائداعظم محمد علی جناح کہی جا رہے تھے کہ راستے میں ریلوے ٹریک بند ہو گیا آپکا درایؤر گاڑی سے اتر کر ایک شخص سے کہنے لگا کہ گورنرں جنرل آئے ہے ٹریک کھولوں مگر ہمارے عظیم لیڈر اور بانی پاکستان نے فرمایا کہ نہیں ا س کو بند رہنے دوں میں ایسی کوئی مثال قائم نہیں کرنا چاہتا جو پروٹوکول پر مبنی ہو ں ۔

ایک مرتبہ سرکاری سامان کے استعمال کے لئے سینتیس روپے کا فرنیچر لایا گیا قائداعظم محمد علی جناح نے لسٹ دیکھی تو سات روپے کی کرسیاں اضافی تھی آپ نے یہ پوچھا کہ یہ کس لئے ہے تو بتایا گیا کہ یہ آپکی بہن فاطمہ جناح کے لئے ہے آُ پ نے لسٹ میں سے وہ رقم کاٹ کر فرمایا کے اس کے پیسے فاطمہ سے لو اس کی ادایئگی قومی خزانے سے نہیں ہو گی 

 

مزید اردو پوسٹ کیلئے روزانہ ہماری ویب سائٹ بیسٹ اردو ڈاٹ کام وزٹ کریں اور اپنا ای میل درج کر کے سب سکرائب کریں اور ہر پوسٹ بذریعہ ای میل اپنے ان باکس میں حاصل کرے شکریہ

    click here and download besturdu.com mobile app

Interesting Incidents of Quaid E Azam Muhammad Ali Jinnah

4 COMMENTS

  1. I know this if off topic but I’m looking into starting my
    own blog and was wondering what all is needed to get set up?
    I’m assuming having a blog like yours would cost a pretty penny?
    I’m not very web smart so I’m not 100% sure. Any tips or advice would be greatly appreciated.
    Thank you

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here