lahore k 13 darwaze

53
1759
lahore k 13 darwaze
lahore k 13 darwaze

lahore k 13 darwaze

Histroy of lahore 

lahore k 13 darwaze

لاہور کے تیرہ دروازوں کی کہانی

شہروں کو حصار بندی کے ذریعے محفوظ کرنے کا طریقہ بہت قدیمی ہے
پہلے زمانو ں میں شہرو کو دشمنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے طویل قامت فصیلں تعمیر کی جاتی تھی 
اور ان میں داخلے پر مختلف مقامات پر دروازے بھی لگائے جاتے تھے اور دروازو پر باقائدہ پہرہ ہوتا تھا جو لوگو کی نکل حرقات پر نظر رکھتے تھے
قدیم لاہور کی تاریخ کے مطابق مغلوں کی آمد سے پہلے لاہور کے ارد گرد کوئی بلند فصیل موجود نہں تھی 
یہ ایک کھلا شہر تھا 
مغل سلاطین میں سب سے زیادہ اکبر بادشاہ نے لاہور میں قیام کیا وہ کم و بیش چودہ برس اس شہر میں مقیم رہا چناچہ اپنے قیام کے دوران اس نے لاہور کے گرد ایک پختہ ٖفصیل تعمیر کروائی کہا جاتا ہے یہ فصیل بہت مظبوط تھی اور اسکے ایک دروازے سے دوسرے دروازے تک کے درمیان دس پہرے دار متعین تھے لاہور کی فصیل میں کل بارہ دروازت تھے اور تیرہواں دروازہ جسے روشنائی دروازہ کیا جاتا تھا یہ قلعے کی جانب جنوب سے جانے کا راستہ تھا 
دروازوں کی تفصیل
لاہور شہر کے اندر داخل ہونے کے لیے مختلف سمتوں میں تیرہ دروازے تھے ہر دروازے کا نام کسی نہ کسی سے مناسبت رکھتا ہے

حضری دروازہ

یہ دروازہ جانب جنوب اقبال پارک کی طرف نصب ہے لاہور شہر کے شمال کی طرف دریائے راوی بہتا تھا جہاں سے لوگ کشتیوں میں سفر کرتے تھے شہر سے دریا کی طرف جانے کا راستہ خضری دروازہ تھا اسی مناسبت سے اس کا نام خواجہ خضر کی روایت پر رکھا گیا تھا 
رنجیت سنگھ کے زمانے میں دو شیر پنجروں میں بند کرکے رکھے گئے تھے جو سارہ دن دہاڑتے رہتے تھے اس زمانے سے اس دروازہے کا نام شیرا لہ دروازہ مشہور ہے اور آج بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے
دہلی دروازہ
قدیم شہر کی جانب مشرق سے نصب ہے اس کا نام اس لیے دہلی کی مناسبت سے رکھا گیا ہے کہ اس دروازے کے قریب سے دہلی جانے کا راستہ ہے اس دروازے کے قریب انگریزوں کے زمانے میں تعمیر شدہ کوتوالی ہے اور کچھ فاصلے پر ریلوے اسٹیش ہے دہلی دروازے سے جب شہر میں داخل ہو تو اس کے اندر سے ایک سڑک سیدہی قلعے کو جاتی ہے

اکبری دروازہ

یہ دروازہ اکبر بادشاہ کے نام پر تعمیر کیا گیا ہے اکبر کے زمانے میں اس علاقے میں اجناس کی منڈی تعمیر کی گئی تھی جو آج بھی اسی طرح قائم ہے 

موچی دروازہ

اصل میں اس کا نام موتی دروازہ تھا جو اکبر کا ایک ملازم تھا اور اس دروازے کا نگران تھا وہ تما م عمر اس دروازے کی نگرانی کرتا رہا تھا عہد مغلیہ سے اس دروازے کا نام موتی دروازہ تھا لیکن سکھو کے زمانے میں یہ دروازہ موچی دروازہ کہلایا جانے لگا
انگریزوں نے اس دروازے کو منہدم کروا دیا تھا اب یہ دروازہ وہاں موجود نہیں ہے
شاہ عالمی دروازہ
دور اکبری میں اس دروازے کا کیا نام تھا اس کی کوئی خبر نہیں ہے بعد میں اورنگیززیب کے بیٹے شاہ عالم کے نام سے یہ دروازہ مشہور ہوا روایت ہو کہ شاہ عالم گونر لاہور نے فلاح عامہ کے بہت کام کئے تھے یہ دروازہ بھی گذشتہ صدی میں دوبارہ تعمیر ہوا تھا 
لیکن اب اس دروازے کا بھی نام تک نہیں

لوہاری دروازہ

یہ دروازہ بھی قدیم شہر کی جانب جنوب میں کھلتا ہے اس دروازے کے نشان آج بھی موجود ہے پہلے یہ دروازہ کافی تنگ تھا اور انگریزو ں کے دور میں اس کو توڑ کے دوبارہ بنایا گیاکہا جاتا ہے کہ موری دروازہ اس جگہ ہے جہا ں سے محمود غزنوی نے لاہور میں داخل ہونے کے لیے فصیل توڑی تھی راجہ جے مال کے فرار کے بعد فتح کی یاد منانے کے لئے یہ دروازہ تعمیر کیا گیا تھا 

بھاٹی دروازہ

یہ دروازہ قدیم شہر کی جانب جنوب میں کھلتا ہے اس دروازے کے اند بھاٹ قوم کسی زمانے میں آباد تھی اور اسی مناسبت سے اس کا نام بھاٹی دروازہ رکھا گیا ہے 
بھاٹی دروازے سے راستہ سیدھا شاہی مسجد کے پاس جا کر ختم ہوتا ہے 

مزید اردو پوسٹ کیلئے روزانہ ہماری ویب سائٹ بیسٹ اردو ڈاٹ کام وزٹ کریں اور  اپنا ای میل درج کر کے سب سکرائب کریں اور ہر پوسٹ بذریعہ ای میل اپنے ان باکس میں حاصل کرے شکریہ

Click here and download besturdu.com android app

SHARE
Previous articlehistroy of lahore
Next articlelibra horoscope

53 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here