page contents

sheikh saadi quotes بادشاہ کی دانائی

sheikh saadi quotes بادشاہ کی دانائی
652 Views

sheikh saadi quotes بادشاہ کی دانائی

sheikh saadi quotes بادشاہ کی دانائی

بادشاہ کی دانائی

حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالی عنہ کی انگشتری میں ایک ایسا نگینہ جڑا ہوا تھا جس کہ صحیع قیمت کا انداذہ جوہری بھی نہ کر سکتے تھے وہ گویا دریائے نور تھا جو رات کو دن میں بدل دیتا تھا 
اتفاق ایسا ہو کہ ایک سال قہط پڑ گیا لوگ بھوکے مرنے لگے حضرت کو ان حالات کا علم ہو ا تو لوگوں کی امداد کے لیے اپنا وہ قیمتی نگینہ فراخت کر دیا اور جو قیمت ملی اس سے اناج خرید کر تقسیم کر دیا
جب اس بات کا علم آپ کے بہی خواہوں کو ہوا تو ان میں سے ایک نے آپ سے کہاں یہ جناب نے کیا کر دیا ایسا بیش قیمت نگینہ بیچ دیا حضرت نے یہ بات سن کر فرمایا وہ نگینہ مجھے بھی بہت پسند تھا لیکن میں یہ بات گوارہ نہ کر سکتا تھا کہ لوگ بھوک سے مر رہے ہو اور میں قیمتی انگوٹھی پہن کر بیٹھا رہوں کسی بھی حکمران کے لیے یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ لوگو ں کو تکلیف میں مبتلا دیکھے اور اپنے آرام اور زیب کے سامان کو عزیز رکھے یہ فرماتے ہوئے آپ کے رخساروں پر آنسوں بہہ رہے تھے

وضاحت

حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حکایت حکمرانوں کو ان کے اس فرض کی طرف توجہ دلائی ہے کہ انہیں اپنے آرام اور آرائش پر عوام کے آرام کو ترجیح دینی چاہیے یہ ایک ایسا اصول ہے جو تخت حکومت سے لے کر ایک معمولی خاندان تک کا احاطہ کرتا ہے

besturdu

Leave a Reply

Your email address will not be published.