page contents

sheikh saadi quotes

sheikh saadi quotes
1,264 Views

sheikh saadi quotes 2

نیکی اور دانیائی کا مقام 

حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان فرماتے ہے کہاایک درویش جس کی پیشانی سے نیکی اور دانائی کا نور زاہر ہو رہا تھا اور جس کا جسم جوانوں کی طرح مضبوط تھا . اس حالت میں ایک بادشاہ کے پاس پہنچا کہ اس کے لباس پر اوپر نیسچے سینکڑوں پیوند لگے ہوئے تھے بادشاہ بی دانا اور مردم شناس تھا .
اس نے دریش کی بات سنی تو اندازہ کر لیا کہ اس شخص کی خدمت مفید ثابت ہو گی اور اسے اپنے ملازموں میں شامل کر لیا دریش نے غسل کر کے نیا لباس پہنا اور اپنے کامو میں مصروٖف ہو گیا
.اور پھر ایسی ہوشمندی سے خدمات دی کہ ترقی کرتا ہوا وزیراعظم کے عہدے تک پہنچ گیا

پہلا وزیر اس نئے وزیر سے حسد کرنے لگا اور اس کوشش میں لگ گیا کہ اس کی کوئی غلطی معلوم ہو تو بادشاہ کے علم میں لائے اور اسے سزا دلوائے لیکن درویش وزیراعظم ایسا عقل مند اور نیک دل تھا کہ کسی کام میں عیب نکالا ہی نہ جاسکتا تھا.

بہت عرصے بعد حسد وزیر کو ایسی بات معلوم ہوئی کہ وہ بادشا ہ کو درویش سے بدظن کر سکتا تھا بات یہ ہوئی کہ دو ایسے غلاموں سے جن کو بادشاہ ان کے خوبصورت ہونے کی وجہ سے بہت پسند کرتا تھا ان کی درویش وزیراعظم سے دوستی ہو گئی یہ دونوں غلام درویش وزیراعظم کو بہت زیادہ نیک اور عقل مند ہونے کی وجہ سے بہت پسند کرتے تھے اور فرصت کے وقت اس کے پاس جایا کرتے تھے درویش وزیراعظم بی ان سے بہت شفقت سے

sheikh saadi quotes 2

باتیں کرتا تھا حاسد وزیراعظم نے ان کی اس پاکیزہ دوستی کو ایک اور ہی رنگ دیا اور نمک مرچ لگا کر من گھڑت داستان بادشاہ ک سنا دی کہ درویش وزیراعظم بہت بد چلن ہے اور جناب کے خوبرو غلاموں کو ورغلا رہا ہے
بادشاہ سنی سنائی باتو پر یقن نہ کرتا تھا اس نے الٹا شکایت کرنے والے حاسد وزیراعظم کہ جھڑک دیا تو اس کی قابلیت سے حسد کرتا ہے لیکن اتفاق سے ان ہی دنوں ایک ایسی بات ہوئی کہ حاسد وزیر کو سچا بن جانے کا موقہ مل گیا ہوا یہ کہ درویش وزیراعظم نے کسی وجہ سے غلام کی طرف دیکھا اور جیسے ہی دونو کی نظریں ملی غلام مسکرا پڑا حاسد وزیر ہر وقت تاق میں رہتا تھا اس نے فورن بادشاہ کو یہ واقہ دیکھا دیا اس نے درویش وزیراعظم کو سزا دینے کا فیصلہ کر لیا لیکن غصے کی حالت میں بھی اسے یہ بات یاد آگئی جب تک پوری تحقیق نہ کر لی جائے کسی کو سزا نہیں دینی چاہیے اس درویش وزیراعظم کو پاس بلایا اور کہا
اے شخص ہم نے تیرے بارے میں خیال کیا تھا کہ تو بہت شریف اور قابل ہے اور اسی لیے تم پر اپنی سلطنت کے راز زاہر کر کے تمھیں اپنا وزیر بنا لیا تھا لیکن ہمیں افسوس ہے ہمارا یہ اندازا ٹھیک نہ نکلا معلوم ہوا تو بہت آوارہ اور بدچلن ہے یہ کہ کر بادشاہ نے غلام کے ساتھ اشارہ بازی کا ہال سنایا اور کہا تجھے سزا ملنی چاہیے
درویش وزیراعظم سمجھ گیا کے حاسد وزیر کی چال ہے اس نے نہایت ادب سے جواب دیا جناب مالک ہے جو چاہے سزا دیں لیکن سچ بات یہ ہے جناب کے ان غلاموں سے میل جول رکھنے کا وہ مطلب ہر گز نہیں جو جناب کو بتایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کے جوانی کے دنوں میں میں بہت خوبصورت تھا جناب کہ ان غلاموں کو دیکھ کر اپنی جوانی یاد آجاتی ہے اور اسی یاد کو تازہ کرنے کے

لیے ان سے باتیں کرتا ہوں بادشاہ کو یہ بات ٹھیک معلوم ہوئی اس نے درویش وزیراعظم کع تعریف کی اسے انعام و اکرام سے

اور حاسد وزیر کو سزا د

وضاحت

حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حکایت میں دو زریں اصول بیان کیے ہیں
ایک عام آدمی کے لیے اور دوسرا حکمرانوں اور صاحب اختیار لوگو سے عام لوگو کو وہ یہ باور کراتے ہیں کہ الیٰ اوصاف ہی انسان کو خاک سے اٹھا کر افلاک پر پہچانے کا باعث ہے درویش وزیراعظم نے ان اوصاف کے باعث ترقی کی اور اپنے دشمن کی شازش لو بھی ناکام بنا دیا
حکمرانوں کے لیے حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ کا یہ مشورہ ہے کی عہدوں کے لیے بہتر لوگوں کا انتخاب غصے کی حالت میں ہوش و حواس پر قابو رکھنا اور پوری تحیق کے بعد فیصلہ کرنا اصول ہیں جو حکومت کو دام اور حکمران کو حیات جادواں عطا کرتے ہیں

 

sheikh saadi quotes 2

 

besturdu

Leave a Reply

Your email address will not be published.