tariq bin ziyad

10
1593
tariq bin ziyad
tariq bin ziyad

tariq bin ziyad

tariq bin ziyad

۔۔۔۔طارق بن زیاد۔۔۔۔۔۔۔

عظیم مسلم جرنیل طارق بن زیاد اسلامی تاریخ میں منفرد مقام کا حامل ہے طارق بن زیاد 680ء کے لگ بھگ پیدا ہوا۔ طارق بن زیاد کا والد “ذیاد “نامور سپہ سالار موسیٰ بن نصیر کا غلام تھا ۔بہادر اور جنگجو زیاد نے موسیٰ بن نصیر کے ہمراہ سولہ جنگی معرکوں میں حصہ لیا اور بعض انتہائی نازک مواقع پر اپنے محسن موسیٰ بن نصیر کی جان بچائی ۔زیاد ایک لڑائی کے دوران شدید زخمی ہوا اور کافی عرصہ بیمار رہ کر انتقال کر گیا ۔زیاد کی وفات کے بعد ان کا بیٹا طارق اور بیوی حلیمہ، موسیٰ بن نصیر کی سرپرستی میں آگئے ۔
موسی بن نصیر نے92 ہجری میں طارق بن زیاد کو سات ہزار بربری فوج دے کر اندلس پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا۔ یہ فوج چار بحری جہازوں پر سوار ہو کر روانہ ہوئی اور جبل الطارق کے مقام پر اتری۔ طارق بن زیاد نے انوکھی جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے واپسی کی امید “بحری جہازوں” کو آگ لگوادی تاکہ مسلمان واپسی کا نہ سوچیں بلکہ صرف اور صرف فتح کے لئے جنگ کریں ۔دریائے والڈیٹ کے کنارے مسلمانوں اور راڈرک کی فوجوں کے درمیان مقابلہ ہوا جس میں مسلمانوں کو کامیابی حاصل ہوئی ۔
طلیطلہ گھات فرمانرواؤں پایہ تخت تھا۔ اس قلعے پر طارق نے خود فوج کشی کی لیکن طارق کی آمد سے قبل ہی اہل طلیطلہ شہرخالی کر کے جاچکے تھے اور اپنے پیچھے قیمتی سامان جواہرات چھوڑ گئے تھے۔ ابنِ قتیبہ کے مطابق” طلیطلہ کی فتح سے مسلمانوں کواتنا سونا، چاندی، جواہرات اور قیمتی سامان حاصل ہوا جس کا شمار نہیں “۔
شمالی اندلس کے صوبوں کو فتح کرنے کے بعد مسلمانوں نے مغربی صوبوں پر دھاوا بولا اور کامیابیاں حاصل کیں اور پورے سپین پر قبضہ کرلیا

۔۔طارق بن زیاد کا مسلمانوں سے خطاب۔۔

”امابعد!لوگو! میدان جنگ سے اب کوئی مفر کی صورت نہیں ہے، آگے دشمن ہیں اور پیچھے دریا، خدا کی قسم صرف پامردی اور استقلال میں نجات ہے ،یہی وہ فتح مند فوجیں ہیں جو مغلوب نہیں ہو سکتیں، اگر یہ دونوں باتیں موجود ہیں تو تعداد کی قلت سے کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اور بزدلی، کاہلی ،سستی، نامردی، اختلاف اور غرور کے ساتھ تعداد کی کثرت کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
لوگو! میری تقلید کرو، اگر میں حملہ کروں تو تم بھی حملہ آور ہو جاؤ اور جب میں رُک جاؤں تو تم بھی رُک جاؤ ،جنگ کے وقت سب مل کر ایک جسم بن جاؤ، میں اس سرکش پر حملہ کرکے دست بدست مقابلہ کروں گا، اگر میں اس حملے میں مارا جاؤں توتم رنج نا کرنا اور میرے بعد آپس میں جھگڑ کر لڑنا بیٹھنا ،اس سے تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تم دشمن کے مقابلے میں پیٹھ پھیردو گے اور قتل و گرفتار ہوکر برباد ہو جاؤ گے۔
خبردار !ذلت پر راضی نہ ہونا اور اپنے آپکو دشمن کے حوالے نہ کرنا، خدا نے مشقت اور جفاکشی کے ذریعے دنیا میں تمہارے لیے جو عزت و شرف اور راحت اور آخرت میں شھادت کاثواب مقدر کیا ہے اس کی طرف بڑھو، خدا کی پناہ اور حمایت کے باوجود اگر تم ذِلت پر راضی ہوگئے تو بڑے گھاٹے میں رہوگے، دوسرے مسلمان الگ تم کو برے الفاظ و میں یاد کریں گے ،جیسے ہی میں حملہ کرو تم بھی حملہ آور ہو جاؤ

طارق بن زیاد کی پہلی فتح

مسلمانوں کی سپین آمد کے وقت بادشاہ راڈرک کا ایک جرنیل تدمیر ساحل کے قریب ہی موجود تھا۔تدمیر کو جب مسلمانوں کی آمد کی اطلاع ہوئی تو اس نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا لیکن اسے زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اپنی جان بچا کر بھاگ نکلا۔شکست خوردہ تدمیر نے راڈرک کو لکھا “اے شہنشاہِ! ہمارے ملک پر ایک غیر قوم نے حملہ کیا ہے میں نے ان لوگوں کا مقابلہ کیا مگر میری فوج ان کا مقابلہ نا کر سکی۔ضرورت ہے کہ اب نفسِ نفیس زبردست فوج اور طاقت کے ساتھ اس طرف متوجہ ہوں میں نہیں جانتا کے یہ حملہ آور کون ہیں،کہاں سے آئے ہیں،آیا آسمان سے اترے ہیں یا زمین سے نکل آئے ہیں

قرطبہ پر قبض

مسلمان سخت گرمی، طوفان اور بارش کی پرواہ کیے بغیر جو ارادہ کرتے اس کی تکمیل کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتے۔ قرطبہ پر قبضہ کرنے کے لیے طارق بن زیاد ایک ہزار سواروں کا دستار لے کر رات کی تاریکی ،سخت بارش اور طوفان میں قلعہ کی جانب روانہ ہوا ۔انتہائی نامناسب حالات کے باوجود شیرانِ اسلام قلعہ کے قریب پہنچ گئے۔ ایک مقامی باشندے نے بتایا! کے فصیل کے قریب انجیر کے درخت کے ساتھ قلعہ کی دیوار میں ایک شگاف ہے۔ مسلمانوں نے درخت تلاش کرکے شگاف کے رستے قلعہ کی فصیل تک رسائی حاصل کرلی ۔قلعہ کی فصیل کے قریب برجوں میں سے عیسائی سپاہی نکل کر لڑنے لگے۔ لیکن مسلمانوں نے سب پر قابو پالیا۔ صبح فجر کے وقت مسلمانوں نے قلعہ کا دروازہ کھول دیا اور باقی اسلامی لشکر بھی قلعہ میں داخل ہوگیا۔ قلعہ کے اندر بڑی زبردست جنگ لڑی گئی جس میں فرزندان توحید بڑی جانبداری سے لڑے اور بالآخر قلعہ فتح ہوگیا

طارق کی دعا

یہ غازی ،یہ تیرے پُر اسرار بندے
جنہیں تُو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نِیم ان کی ٹھوکر سےصحراودریا
سِمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذّتِ آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کِشور کُشائی
خیابان میں ہے، مُنتظر لالہ کب سے
قبا چاہیے اس کو خُونِ عرب سے
کِیا تُو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں ،نظر میں ،اذانِ سَحر میں
طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر میں
کُشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
دلِ مردِ مومن میں پھر زندہ کردے
وہ بجلی کہ تھی نعرۂ ‘لا تذَر’ میں
عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاہِ مسلماں کو تلوار کردے

 

جبلالطارق

اسپین پر حملہ کرنے کے لئے طارق کے جہازوں نے جہاں لنگر ڈالے اس جگہ کا نام لائنز راک تھا۔ اندلس فتح ہونے کے بعد اس کا نام جبل طارق رکھا گیا ۔ آج بھی اس مقام کو جبل طارق کے نام سے جانا جاتا ہے۔
طارق بن زیاد نے 711ءمیں جبرالٹر پر قبضہ کر کے اسے مملکتِ اسلامیہ کا حصہ بنا ڈالا ۔1309ءنے اس اہم مقام پر قشتالہ کے عیسائیوں نے قبضہ کیا پھر1333ءمیں بنو مرین نے اس جگہ پر اپنا تسلط قائم کیا بعدازاں اسے 1374ءمیں مملکت غرناطہ کے حوالے کردیا ۔1462ءمیں عیسائیوں نے مسلمانوں کو شکست دے کر اس کا قبضہ حاصل کرلیا۔
14اگست 1704ءکو یہ اہم مقام برطانیہ کے قبضے میں چلا گیا۔ جغرافیائی اعتبار سے جبل الطارق برطانوی افواج خصوصاً بحریہ کے لیے انتہائی اہم ہے ۔اس کا رقبہ 5.6 مربع کلومیٹر اور آبادی تقریبا 30000 ءہے ‏۔جبل الطارق سپین اور برطانیہ کے درمیان تنازعات کا باعث رہا ۔1713ء میں ایک معاہدے کے تحت اس کا کنٹرول برطانیہ کو دے دیا گی

مزید اردو پوسٹ کیلئے روزانہ ہماری ویب سائٹ بیسٹ اردو ڈاٹ کام وزٹ کریں اور اپنا ای میل درج کر کے سب سکرائب کریں اور ہر پوسٹ بذریعہ ای میل اپنے ان باکس میں حاصل کرے شکریہ

Click here and download besturdu.com android app

10 COMMENTS

  1. I simply want to mention I’m new to blogs and absolutely enjoyed your web blog. Likely I’m planning to bookmark your website . You certainly come with really good articles. Appreciate it for sharing with us your web page.

  2. I cling on to listening to the news update lecture about getting boundless online grant applications so I have been looking around for the top site to get one. Could you advise me please, where could i find some?

  3. Faytech North America is a touch screen Manufacturer of both monitors and pcs. They specialize in the design, development, manufacturing and marketing of Capacitive touch screen, Resistive touch screen, Industrial touch screen, IP65 touch screen, touchscreen monitors and integrated touchscreen PCs. Contact them at http://www.faytech.us, 121 Varick Street, New York, NY 10013, +1 646 205 3214

  4. Varick Street Litho , VSL Print is one of the top printing company in NYC to provide the best Digital Printing, Offset Printing and Large Format Printing in New York. Their printing services in NYC adopts state of the art digital printing services and offset digital printing for products postcards, business cards, catalogs, brochures, stickers, flyers, large format posters, banners and more for business in NYC. For more information on their digital printing nyc, visit http://www.vslprint.com/ or http://www.vslprint.com/printing at 121 Varick St, New York, NY 10013, US. Or contact +1 646 843 0800

  5. MetroClick specializes in building completely interactive products like Photo Booth for rental or sale, Touch Screen Kiosks, Large Touch Screen Displays , Monitors, Digital Signages and experiences. With our own hardware production facility and in-house software development teams, we are able to achieve the highest level of customization and versatility for Photo Booths, Touch Screen Kiosks, Touch Screen Monitors and Digital Signage. Visit MetroClick at http://www.metroclick.com/ or , 121 Varick St, New York, NY 10013, +1 646-843-0888

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here